نئی دہلی،23/جولائی(ایس او نیوز/ایجنسی)2023میں مسلمانوں کی آبادی کے 19.7 کروڑ ہونے کا اندازہ ہے۔ حکومت نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں یہ اطلاع دی۔
اقلیتی امور کی وزیر اسمرتی ایرانی نے لوک سبھا میں ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی)مالا رائے کے سوالوں کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2011کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا 14.2 فیصد ہے۔ 2023 میں آبادی میں ان کا حصہ اسی تناسب سے رہنے کا امکان ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے پسماندہ مسلمانوں کی آبادی سے متعلق اعداد و شمار کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔
انڈیا ٹی وی کے مطابق مالا رائے نے 3سوال پوچھے۔ پہلا، کیا 30 مئی تک مسلم آبادی کے بارے میں کوئی ملک گیر ڈیٹا موجود تھا؟ دوسرا، کیا حکومت کے پاس پسماندہ مسلمانوں کی آبادی کا کوئی ڈیٹا ہے؟تیسرا، ملک میں پسماندہ مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی حالت کیا ہے؟ایرانی نے مزید کہا کہ وزارت شماریات اور پروگرام کے نفاذ (MoSPI) کے ذریعہ کئے گئے متواتر لیبر فورس سروے (PLFS) 2021-22کے مطابق، 7 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مسلمانوں کی خواندگی کی شرح 77.7 فیصد تھی۔ تمام عمروں کیلئے لیبر فورس کی شرکت کی شرح 35.1فیصد تھی۔
وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ملٹیپل انڈیکیٹرز سروے 2020-21 کے مطابق مسلمانوں میں پینے کے پانی کی دستیابی کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ یہ بڑھ کر 94.9فیصد ہو گیا ہے۔ بیت الخلا کیلئے یہ تعداد بڑھ کر 97.2 فیصد ہو گئی ہے۔ 31مارچ 2014 کے بعد اپنا پہلا مکان یا فلیٹ خریدنے والے مسلمانوں کی تعداد بڑھ کر 50.2 فیصد ہو گئی۔
ایرانی کے مطابق، 2011 کی مردم شماری کے 14.2 فیصد کے اسی تناسب کو لاگو کرتے ہوئے، 2023 میں مسلمانوں کی تخمینہ آبادی 197 ملین یعنی 19کروڑ 70لاکھ ہو جائے گی۔ وزیر نے خواندگی کی شرح، لیبر فورس کی شرکت اور پانی، بیت الخلا اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی کے بارے میں بھی معلومات دیں۔ تاہم، پسماندہ مسلمانوں سے متعلق آبادی کے اعداد و شمار سے متعلق سوالات پر جواب خاموش رہیں۔